اردو زبان کیا ہے؟

Content Writer 2025

اردو زبان کیا ہے؟

لفظ اُردو نستعلیق خط میں لکھا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ نستعلیق فارسی عربی رسم الخط کی وہ شاہکار طرز ہے جس میں حروف آپس میں مل کر اردو الفاظ کو خوبصورت انداز میں شکل دیتے ہیں۔ اردو زبان آریائی خاندان کی زبان ہے جو بنیادی طور پر برصغیر کی ہی پیداوار ہے۔ دیگر آریائی زبانوں کی طرح اس کا گرامر ہندی کے مماثل ہے، البتہ اردو نے عربی اور فارسی کے الفاظ بڑے پیمانے پر اپنے ذخیرہ الفاظ میں شامل کیے ہیں۔ اس لئے اردو اور ہندی مل جل کر بولی جانے والی ہندستانی زبان کا حصہ ہیں، مگر رسم الخط اور لغت میں بنیادی فرق ہے۔

اردو زبان کیا ہے؟

اردو زبان کی تاریخ اور ارتقاء

اردو کی ابتدا مسلمانوں کی برصغیر آمد کے بعد ہوئی۔ تاریخ دانوں کے مطابق اردو زبان بارہویں صدی (مسیحی) کے بعد شمال مغربی ہندوستان میں مختلف علاقائی بولیوں کے ملاپ سے ابھری۔ اردو کے پہلے معروف شاعر سر امیر خسرو (1253–1325ء) تھے جنہوں نے اس نئی بولی میں ہندوی کے نام سے شعر کہے۔ اس زمانے میں اردو کو مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا جیسے ہندوی، زبانِ ہند، زبانِ دہلی، ریختہ اور دکنی۔ اردو کا نام اصل میں ترکی زبان سے نکلا ہے جس کا مطلب “لشکر” یا “کیمپ” ہوتا ہے۔ مغل دور میں دہلی کے اردو بولنے والے اسے “زبانِ اردوِ معلیٰ” کہتے تھے۔

انگریزوں کے عہد میں اردو اور ہندی کی علیحدگی کا عمل شروع ہوا، اور اردو خاص طور پر مغل دربار اور بہاؤ کی زبان بنی رہی۔ سندھ پر ۷۱۱ء کی مسلم فتح کے بعد فارسی اور عربی کے اثرات اردو پر چڑھتے گئے۔ بارہویں صدی کے بعد سے لیکر مغل سلطنت (1526–1858ء) کے دور میں اردو نے تیزی سے ترقی کی۔ دین دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد جیسے ادبی مراکز میں اردو ادب پھلا پھولا۔ اردو شاعری کا سنہرا دور اٹھارویں اور انیسویں صدی میں تھا۔

قیامِ پاکستان کے وقت اردو کو ملکی قومی زبان قرار دیا گیا۔ البتہ عملی طور پر اس کی سرکاری استعمالیت ابھی تک مکمل نہ ہو سکی ہے۔ ہر صورت، اردو آج بھی پاکستان اور بھارت کی ثقافتی وراثت کا اہم حصہ ہے۔ عصری دور میں اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور بھارت کے صدرِ آئین کے تحت تسلیم شدہ زبانوں میں شامل ہے۔

اردو رسم الخط اور الفاظ

اردو فارسی رسم الخط کی ترمیم شدہ شکل میں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے۔ اس کے رسم الخط کو نستعلیق کہتے ہیں جو فارسی نستعلیق اور تعلیق حروفِ تحریر کا حسین امتزاج ہے۔ خطِ نستعلیق میں حروف عام طور پر ایک دوسرے سے جُڑے لکھے جاتے ہیں جس سے الفاظ کو شکوہ اور رعنائی ملتی ہے۔ اردو رسم الخط کا سب سے بڑا حسن اس کی کشیدہ حروف کا بہاؤ ہے جو پڑھنے والا فوراً پہچان لیتا ہے۔

اردو کے حروفِ تہجی میں عموماً 39 یا 40 منفرد حرف شامل ہیں۔ مثلاً الف، ب، پ، ت، ٹ، ث، ج، چ، ح، خ، د، ڈ، ذ، ر، ڑ، ز، ژ، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق، ک، گ، ل، م، ن (ں)، و، ہ، ھ، ء، ی، ے، وغیرہ۔ اردو الفاظ کی بہتات میں عربی اور فارسی کے الفاظ شامل ہیں، جس کی وجہ سے اس کا ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے۔ اسی طرح سندھی اور ترکی کے چند الفاظ بھی اردو کا حصہ بنے ہیں۔

اردو ادب میں میرزا غالب کا یہ شعر نستعلیق قلم میں لکھا گیا ہے۔ اس مثال میں بھی دیکھیں کہ حروف کس دل کشی سے مل کر مصرعہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں شاعری بے مثال ہے؛ میر تقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، پروین شاکر جیسے شعراۓ کرام نے اردو کی خوبصورتی کو الفاظ میں ڈھالا۔ ان کے اشعار پڑھ کر اردو کی لطافت اور عمقِ معنی کا اندازہ ہوتا ہے۔ (براۓ مثال، غالب کا مجموعہ کلام دیوانِ غالب اردو ادب کی شاہ کار کتاب ہے۔)

اردو کی اہمیت اور استعمال

پاکستان میں اردو قومی زبان ہے جس کا اصل مقصد تمام صوبوں کے لوگوں کو ایک ربط دینا ہے۔ عوام میں اتحاد اور فہمی کے لئے اردو بڑی قوت ہے۔ اس میں کئی صدیوں کی تاریخ اور ثقافت محفوظ ہے۔ تحریکِ پاکستان میں اردو کا کردار بھی نمایاں رہا کیونکہ مسلمانوں نے اردو میں اپنی فکر اور علم کا اظہار کیا۔ آج بھی سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور میڈیا میں اردو استعمال ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں، اردو بولنے والے دنیا بھر میں پھیل گئے ہیں۔ بھارت، پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال اور خلیجی ممالک میں اردو بولنے والے بستے ہیں۔ مغربی ممالک میں بھی بڑی تعداد میں برصغیر کے لوگ اردو بولتے ہیں، مثلاً برطانیہ، امریکہ، کینیڈا میں۔ اردو زبان کا شمار عالمی زبانوں میں ہوتا ہے اور اس میں ڈرامے، فلمیں اور ادب سے وابستہ بہت کام ہو رہے ہیں۔

اردو ادب اور مطالعہ

اردو ادب کا سمندر لا محدود ہے۔ ادبی طالب علموں کے لئے میر تقی میر، مرزا غالب اور علامہ اقبال کے کلام کا مطالعہ گوہرِ نایاب ثابت ہوتا ہے۔ میرزا غالب کا دیوانِ غالب اردو شاعری کی جواہر سے بھرا ہوا ہے۔ اسی طرح علامہ اقبال کی کلیات میں اردو میں فلسفہ اور عشق کا حسین امتزاج ملتا ہے (مثلاً بانگِ درا وغیرہ)۔ نثر میں عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، عصمت اللہ انور، منیر نیازی جیسی عظیم کتابیں ہیں۔ اردو زبان سیکھنے یا ادبیات کے طالب علم کو ڈاکٹر سلیم اختر کی کتاب "اردو زبان کیا ہے؟" اور سید وحید نقوی کی اردو گرامر پر مبنی تصانیف سے بھی رہنمائی مل سکتی ہے۔ ان مصنفین کی کتابیں اردو زبان کی تاریخ اور قواعد پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہیں۔

مزید برآں، اگر آپ اردو زبان کے شیدائی ہیں تو ہر عمر میں مطالعے کا شوق رکھیں۔ جیسی مقابلہ جاتی امتحانات میں عوامی خدمات پبلک سروس کمیشن بھی اردو زبان اور ادب سے متعلق سوالات کرتے ہیں۔ ان انٹرویوز میں عام طور پر “اردو کی ابتداء”، “اردو کے اہم مصنف” یا “اردو الفاظ کے ماخذ” جیسے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ میں نے اردو جنرل معروضی کتب پڑھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو کا ادبی پس منظر اور قومی اہمیت اکثر امتحانی نصاب میں ہوتی ہے۔

اردو زبان: عمومی سوالات

  • سوال: اردو زبان کا لفظ “اردو” کہاں سے آیا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟
    جواب: “اردو” لفظ ترکی زبان سے آیا ہے، جس کا مطلب لشکر یا کیمپ (فوجی کیمپ) ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر مغل دربار میں اردو کو فوج کے خیموں یا کیمپ کی زبان کہا جاتا تھا، اس لئے یہ نام پڑا۔
  • سوال: اردو زبان کا رسم الخط کون سا ہے؟
    جواب: اردو فارسی-عربی رسم الخط کا مُرّخّب  انداز ہے۔ اسے نسعلیق کہا جاتا ہے جو دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے۔ نستعلیق خط میں حروف مل کر خوبصورت انداز بناتے ہیں۔
  • سوال: اردو حروفِ تہجی میں کتنے حروف ہیں؟
    جواب: اردو کے رسم الخط میں عام طور پر 39 سے 40 حروف شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں الف، ب، پ، ت، ٹ، ث وغیرہ کے ساتھ علامت”ں” اور”ھ” بھی آتے ہیں۔
  • سوال: اردو زبان کہاں کہاں بولی جاتی ہے؟
    جواب: اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور بھارت کے کچھ علاقوں میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اردو بولنے والی زبان ہیں۔ دنیا بھر میں اردو زبان بھی اردو بولنے والے بستے ہیں۔
  • سوال: اردو اور ہندی میں کیا فرق ہے؟
    جواب: اردو اور ہندی دونوں مشترکہ انڈو-آریائی بنیاد پر قائم ہیں اور بول چال کی سطح پر ایک جیسی محسوس ہو سکتی ہیں۔ البتہ ان کا سب سے بڑا فرق رسم الخط اور الفاظ ہیں۔ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے جبکہ اردو عربی-فارسی رسم الخط (نستعلیق) میں۔ لغت کا فرق بھی ہے: اردو نے عربی و فارسی کے الفاظ لیے ہیں، جبکہ ہندی نے سنسکرت کے الفاظ۔
  • سوال: اردو زبان کب اور کیسے وجود میں آئی؟
    جواب: اردو کی ابتداء وسطِ قرونِ وسطٰی میں ہوئی۔ آٹھویں صدی میں سندھ کی فتح کے بعد عربی و فارسی کے الفاظ ہندوستان کی مقامی بولیوں میں شامل ہونے لگے۔ بارہویں صدی سے لے کر مغل سلطنت تک اردو کا نشوونما ہوتا رہا۔ یہ ایک ملاپ زبان تھی جسے ابتدا میں ہندوی یا زبانِ دلی کہتے تھے۔
  • سوال: اردو میں زیادہ تر کن زبانوں کے الفاظ شامل ہیں؟
    جواب: اردو میں سب سے زیادہ الفاظ عربی اور فارسی سے لیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ترکی اور انگریزی کے بھی چند الفاظ اردو میں شامل ہیں۔ اس لئے اردو کا ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے۔
  • سوال: کیا اردو پاکستان کی قومی زبان ہے؟
    جواب: جی ہاں، اردو کو پاکستان کا قومی زبان تسلیم کیا گیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کو قومی وحدت کا اساسی حصہ سمجھا تھا۔ پاکستان کے آئین میں بھی اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔
  • سوال: اردو ادب کے مشہور ادیب کون ہیں؟
    جواب: اردو ادب میں بہت سے مشہور شاعر اور ادیب گزرے ہیں۔ مثال کے طور پر میر تقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، اور عصمت چغتائی جیسے نام اردو ادب کے ستون ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھ کر اردو کے حسن اور معنویت کا گہرا پتا چلتا ہے۔
  • سوال: کیا پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں اردو زبان کے سوال آتے ہیں؟
    جواب: ہاں، صوبائی یا وفاقی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات و انٹرویو میں اردو زبان اور ادب سے متعلق موضوعات اکثر رہتے ہیں۔ مثلاً آپ سے اردو کی تاریخ، معروف شعراء، یا روزمرہ کے استعمال میں آنے والے اردو محاورات کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔ میں نے خود اردو جنرل معروضی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے جن میں اردو زبان کے بنیادی سوالات شامل ہیں، اور ایسے سوالات عام طور پر ان مقابلوں میں آتے ہیں۔

 اردو کی عظمت کا اعتراف

مجھے اُمید ہے کہ آپ کو اردو زبان کے تعارف، تاریخ اور اہمیت کے بارے میں بہت کچھ نیا جاننے کو ملا ہوگا۔ اردو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہماری ثقافت، تاریخ اور تہذیب کا آئینہ ہے۔ جیسا کہ اکثر کہتے ہیں، اردو نہ ختم ہونے والی کہانی ہے جتنا پڑھو، اتنا ہی نئی جہتیں آپ کے سامنے آئیں گی۔ میری گزارش ہے کہ اردو میں خود کو آگہی بڑھائیں: چاہے کسی شیر پارہ سے ہو یا کسی ادیب کی کتاب سے، علم پانے کی تلخی کبھی ماند نہیں پڑنی چاہیے۔ پڑھنا اور لکھنا دونوں ہی اردو کے فروغ میں اہم ہیں۔ کوشش کریں کہ اردو ادب کے شاہکار (جیسا کہ دیوانِ غالب یا بانگِ درا) ضرور پڑھیں۔ اس سے آپ نہ صرف زبان کے خزانے سے فیض یاب ہوں گے بلکہ اپنی سوچ میں بھی وسعت محسوس کریں گے۔

اردو زبان کے آئینے میں سر جھکانے سے اس کی شان بڑھے گی۔ جیسے جیسے آپ کتابوں اور ادبی محفلوں میں وقت گزاریں گے، اردو آپ کو اپنی جاذبیت سے بندھے گی۔ بلا شبہ اردو ہماری قومی شناخت ہے اور اس کا احسان ہمارے علماء اور ادباء پر ہے کہ انہوں نے اس کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اب اگر آپ بھی ایک علم کا متلاشی ہیں تو اردو کے اس وسیع سمندر میں غوطہ لگائیں، یقیناً آپ کو بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔ اردو زندہ باد!

حوالہ جات: علمی معلومات اور تاریخی حقائق کے لیے مندرجہ ذیل مستند ماخذ استعمال کیے گئے ہیں: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، لائبریری آف کانگریس، اور اردو رسم الخط کی تشریح۔ ان حوالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اردو نہ صرف ایک زندہ زبان ہے بلکہ اس کا ادبی و ثقافتی ورثہ بھی بے مثال ہے۔

  • Newer

    اردو زبان کیا ہے؟

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default